Ticker

10/recent/ticker-posts

فیول پرائس ایڈجسمنٹ کیا ہے

فیول پرائس ایڈجسمنٹ کیا ہے

 ہر مہنیے ہر تیسرا شخص اپنے بجلی کے بل کے حوالے سے کنفیوژن کا شکار ہے کہ اس نے100یونٹس استعمال کئے ہیں لیکن بل تین، چار ہزار یا شائد اس سے بھی زیادہ آ گیا ہے۔بجلی کے بلوں میں موجود  فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ اورAQTA کی رقم کا تعلق آپ کے اس مہینے کے ساتھ نہیں ہے جس کا آپ کو بل آیا ہے۔ عمومی طور پرFPA کا اطلاق دو ماہ کی تاخیر سے ہو رہا ہوتا ہے

معزز قارئین اس بلاگ کا مقصد بجلی کے بلوں کے حوالے سے پائی جانے والی کچھ غلط فہمیوں کو دور کرنا ہے۔ اس کی ضرورت یوں محسوس ہوئی کہ ہر مہنیے ہر تیسرا شخص اپنے بجلی کے بل کے حوالے سے کنفیوژن کا شکار ہے کہ اس نے100یونٹس استعمال کئے ہیں لیکن بل تین، چار ہزار یا شائد اس سے بھی زیادہ آ گیا ہے۔ سب سے پہلے تو یہ جان لیں کہ بلوں میں موجودFPA  اورAQTA کی رقم کا تعلق آپ کے اس مہینے کے ساتھ نہیں ہے جس کا آپ کو بل آیا ہے۔ عمومی طور پرFPA کا اطلاق دو ماہ کی تاخیر سے ہو رہا ہے۔ سادہ لفظوں میں یوں ہے کہ ایک دوست کا دسمبر کا بل 160یونٹس کا تقریبا 4500روپے آیا ہے۔ اب اس بل میں موجود اس ماہ کی رقم تو ٹیکسوں کے بغیر 1600 روپے ہے، 800 روپے ٹیکسز کی مد میں ہیں اور 2500 روپے فیول پرائس ایڈ جسٹمنٹ کی مد میں لگے ہیں۔ یہیں سے غلط فہمی پیدا ہو رہی ہے اور پڑھے لکھے لوگ بھی اووربلنگ کی شکایت کر رہے ہیں،حالانکہ ایسی کوئی بات نہیں ہے۔ اب مذکورہ بل میں دسمبر کے یونٹس تو ہیں لیکنFPA کا اطلاق چونکہ دو ماہ کی تاخیر سے ہو رہا ہے، اس لیے یہFPA دسمبر کی بلنگ کی بجائے اکتوبر کے بلنگ یونٹس پر ہو گا جو کہ متعلقہ مہینے میں 460یونٹس ہیں،460یونٹس کوFPA کے ریٹ کے ساتھ ضرب دیں جو اس ماہ کا 4.75روپے فی یونٹ کے حساب سے ہے اس کی رقم 2500روپے ہی بنتی ہے


یاد رہے کہ کوئی بھی پڑھا لکھا صارف نیپرا کی ویب سائٹ  www.nepra.org.pk پہ جا کر نیوز آپشن سے کسی بھی مہینے کا ایف پی اے ریٹ چیک کر سکتا ہے اور متعلقہ ماہ کے یونٹس کے ساتھ ضرب دے کر اپنی ایف پی اے کی رقم کا تخمینہ لگا سکتا ہے۔ وہاں موجود ایف پی اے نوٹیفکیشن میں یہ لکھاہوتا ہے کہ یہ فلاں مہینے کا ایف پی اے ہے اور اس نے فلاں مہینے کے بل میں لگ کر آنا ہے۔



اب ایک سوال یہ کیا جاتا ہے کہ یہFPA یا AQTAہے کیا چیز۔ یہ FPA دن بدن زیادہ کیوں ہوتا جا رہا ہے۔ سادہ لفظوں میں اس کا جواب تو یہ بنتا ہے کہ FPAیا فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ کا تعلق زیادہ تر تیل و گیس کی قیمتوں کے ساتھ ہے۔ جیسا کہ سبھی لوگ جانتے ہیں کہ ان موجودہ مہینوں میں ملکی اور عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے اور ہماری بجلی کی بڑی مقدار تیل سے پیدا ہو رہی ہے، تو جوں جوں تیل کی قیمتیں بڑھیں گی، ٖFPA میں بھی اضافہ ہو گا۔


مزیدتفصیل میں اگر جائیں تو ہر ڈسٹری بیوشن کمپنی نے سالانہ بنیاد پر اپنی ٹیرف پٹیشن نیپرا کو فائل کرنا ہوتی ہے، جس کا تخمینہ نیپرا نے لگا کر اس کی توثیق یا ترمیم کرنا ہوتی ہے اور پھر حکومت اس کانوٹیفیکشن جاری کرتی ہے۔اس کے بعد وہ ٹیرف بجلی بلوں میں عوام پر لا گو کیا جاتا ہے۔ ٹیرف میں دو بنیادی کمپونینٹ ہیں۔ ایک پاور پرچیز پرائس یعنی وہ رقم جو ڈسٹری بیوشن کمپنیوں نے متعلقہ عرصے میں بجلی کی خریداری کی مد میں ادا کرنی ہے  اور یہ ہمارے ٹیرف کا  نوے فیصد سے بھی زائد حصہ بنتا ہے وہ سیدھا CPPA  (سنڑل پاور پرچیزنگ ایجنسی)  جو بجلی کی خریداری کا مرکزی ادارہ ہے کے اکاؤنٹ میں بجلی کی خریداری کی مد میں چلا جاتا ہے۔ اس ادائیگی میں اگر تعطل پیدا ہو گا یا جتنی کمی ہو گی، اتنا ہی ہمارے گردشی قرضوں میں اضافہ ہو تا جائے گا جس سے بجلی پیدا کرنے والی کمپنیوں کو کی جانے والی ادائیگیوں کا توازن بگڑے گا اور اگر وہ  اس وجہ سے بجلی کم پیدا کریں گی  تو ملک میں لوڈ شیڈنگ کی صورت حال پیدا ہو جائے گی۔دوسرا  محدود سا حصہ ڈسٹری بیوشن مارجن کا ہے جو کہ ڈسٹری بیوشن کمپنیوں کے ان کے چلانے کے سالانہ اخراجات ہیں۔جن میں ملازمین کی تنخواہیں،الاؤنسز، ٹرانسپورٹیشن، بجلی کی مین ٹیننس کے اخراجات، قرض ادائیگیاں وغیرہ شامل ہیں۔

Post a Comment

0 Comments