Ticker

10/recent/ticker-posts

لائن سٹاف کی معاوضہ پالیسی کے حوالے سے ڈپٹی ڈائریکٹر (ہیلتھ سیفٹی انوائرمنٹ) گیپکوچوہدری اکبر علی کی چند مخلصانہ تجاویز

 معاوضہ پالیسی برائے لائن سٹاف (چند مخلصانہ تجاویز)

 دنیا میں کسی بھی ادارے کی بقا اور کامیابی کا انحصار اس کے ملازمین پر ہوتا ہے جس کے اندر ورک فورس /لیبر اور مینجمنٹ اپنا اپنا کلیدی کردار ادا کرتے ہیں جیسا کہ اقوام عالم کی ترقی  اور کامرانی اس کے افرادکے ہاتھ میں ہوا کرتی ہے۔ بقول شاعر مشرق علامہ محمد اقبالؒ

افراد کے ہاتھوں میں ہے اقوام کی تقدیر ۔۔۔   ہر  فر د ہے  ملت  کے  مقدر  کا ستارہ 


اسی بنیادی اصول کو سامنے رکھتے ہوئے ہر ادارہ اپنے مزدور اور ملازم کی حفاظت کے لیے پالیسی تشکیل دیتا ہے اور ہمیشہ کوشش یہی ہوتی ہے کہ ہر فرد کو بچایا جائے نہ صرف ذہنی بلکہ جسمانی تکلیف کا بھی سامنا نہ کرنا پڑے  وقت کے ساتھ  بدلتے ہوئے مشینی ادوار میں حفاظتی پالیسی کواَپ ڈیٹ کیا جاتا رہا ہے ہر اک مسیحا نے اپنی استطاعت اور لیاقت کے مطابق اپنا حصہ ڈالا ہے اور مطمع النظر یہی بات رہی کہ کسی طرح انسان کو محفوظ کیاجائے  کہ کائنات کی سب سے بڑی کتاب ہدائت اور نسخہ کیمیا کے عطا کردہ اعلان کہ”جس نے ایک زندگی بچائی گویا کہ انسانیت کو بچایا“ کے تحت ملازمین کی جان کی حفاظت کے لیے عالمی اداروں میں منفرد نام گیپکو کا بھی ہے جو کہ پاکستان کے انرجی سیکٹر میں کلیدی کردار ادا کر رہا ہے اورڈسٹری بیوشن کمپنیوں (ڈسکوز) میں صف اول میں شمار کیا جاتا ہے۔

 گیپکو نے نا صرف حفاظتی پالیسی کو بہتر اندار میں اختیار کیا ہے بلکہ بورڈ آف ڈائیریکٹرز کی شبانہ کوششوں اور مزدور دوست سوچ نے حفاظتی پالیسی کو صحت اور ماحولیاتی بہتری کے ساتھ منسلک کرواکر مزدورکی مکمل اور ہر طرح کی حفاظت کا سامان کیا ہے اس ضمن میں ہیلتھ سیفٹی اینڈ انوائرنمنٹ مینجمینٹ سسٹم بھی دیا اور نیپرا کی ہدایات کو سامنے رکھتے ہوئےHSE Manual کو بھی گیپکو کے لیے منظورکیا اور اس کی اصل روح کے مطابق نافذ کرنے کے احکامات بھی دیے ہیں اسی Manual میں ایک انتہائی اہم باب حادثات کا شکار ہونے والے ملازمین کے معاوضہ کے متعلق بھی ہے جس کے تحت حادثہ کی نوعیت کو سامنے رکھتے ہوئے باالخصوص حادثہ میں وفات پانے والے کو معاوضہ کی رقم اور اس کے ساتھ بچوں یا رشتہ داروں کو ملازمت بھی دی جاتی ہے جبکہ   ملازمین کوخلاف ورزی پر سزاوں کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے اس جزا اور سزا کے عمل میں یہ دیکھا گیا ہے کہ حادثات پھر بھی کم ہونے کا نام نہیں لیتے۔آج تک جتنی بھی انکوائریاں کی گئی ہیں یہ بات کھل کر سامنے آئی ہے کہ حادثہ ہمیشہ غیر محفوظ عمل کی وجہ سے ہوا ہے تقریبا 95 فیصد حادثات حفاظتی اصول کی خلاف ورزی ٹی اینڈ پی/پی پی ای کے استعمال نہ کرنے کی وجہ سے ہوتے ہیں۔ یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ ابھی تک ملازمین میں سیفٹی کلچرکو پیدا نہ کیا جا سکا ہے۔ کیونکہ چھپ کر کام کرنے اور ذاتی مفادات کو سامنے رکھتے ہوئے جان کی پرواہ نہ کرنا بھی ان کا شیوا ہے اس کی شائد وجہ جزا اورسزا کے نظام کے نفاذ میں کمی یا معاوضہ پالیسی کو بہتر اورنظر ثانی کرنا مقصود ہے۔

اسی ضمن میں درج ذیل کچھ تجاویز اور رائے دی جاتی ہے کہ اس کو زیر بحث لایا جائے اور لائن سٹاف کو حادثات سے بچایا جاسکے۔

۱۔ کسی بھی حادثہ کی انکوائری کرانے سے قبل انکوائری آفیسرز سے حلف لیا جائے کہ انکوائری کرتے ہوئے کسی بھی تعلق، دباو اور مراعات کو ملحوظ نہ رکھا جائے گا اور سچ کے اصولوں پر انکوائری کی جائے گی۔

۲۔انکوائری میں اگر ثابت ہو کہ ملازم لائن مین /اے۔ایل۔ایم نے سیفٹی اصولوں کی پاسداری نہ کی یعنی کام کرنے سے پہلے اور دوران جو بھی ایچ ایس ای   ُٓؒ ٰٰپالیسی میں لکھا اور ہدایات دی جاتی رہیں پر عمل نہ کیا تو کسی قسم کی کوئی معاوضہ یاریلیف پیکج نہ دیا جائے صرف گھر والوں کو میڈیکل فیسلٹی اور پنشن دی جائے اور اگر عمل کیا تو پھر مراعات دی جائیں۔اس کے مقابلہ میں جو لائن مین سیفٹی اصولوں کو اپناتے ہوئے اور مکمل ٹی اینڈ پی /پی پی ای کو استعمال کرتے، زندہ اور صحیح سلامت ریٹائر ہو کر گھر جائیں ان میں سے ہر ایک کو دس یا پندرہ لاکھ روپیہ انعام دیا جائے اور اس کے ایک بچہ/بچی۔ رشتہ دار کو دوران ملازمت وفات پا جانے والے ملازمین کے کوٹہ میں پالیسی کے مطابق ملازمت دی جائے۔

۳۔  اگر یکمشت رقم نہیں دی جاسکتی تو مندرجہ بالا انعامی رقم بذریعہ اقساط اس کی ماہانہ پینشن میں پانچ یا دس ہزار روپے جو بھی مناسب ہو ادا کی جائے۔

۴۔ ریٹائر ہونے والے لائن مین کے تجربات اورمہارت سے فائدہ اٹھانے کے لیے ایک کمیٹی یا بورڈ کے ذریعہ کنسٹرکشن ڈویژن یا ریجنل ٹریننگ سنٹر میں کسی جگہ مناسب تنخواہ پر رکھ لینا چاہیے۔

۵۔ اگر ریٹائرمنٹ کے بعد کوئی لائن مین گیپکو سسٹم پر بلا اجازت یا اپنے تئیں کام کرتا پکڑا جائے تو اس کو درج بالا دی گئی مراعات ختم کر دی جائیں اور صرف میڈیکل اور پنشن دی جائے۔

۶ ۔ یہ بھی دیکھا گیا کہ لائن مین کو شہادت کا رتبہ دینے کے لیے گارڈ آف آنر دیا جاتا ہے یہ حق صرف اس ملازم کو دیا جائے جو کہ مکمل ٹی اینڈ پی /پی پی ای کو استعمال کرنے کے بعد اور سیفٹی اصولوں کی پاسداری کرنے کے بعد شہید ہوا ہو اور گارڈ آف آنر قبرستان کی حدود سے باہر دیا جائے اس کے لیے قبرستان کا تقدس ملحوظ کھنا بہت ضروری ہے۔

کیونکہ حضرت ابوہریرہ ؓ  سے روایت ہے رسول اللہ ﷺنے فرمایا ”تم سے کسی کا انگارے پر بیٹھ جانا اور آگ کا اسے جلا دینا اس کے لئے قبر پر بیٹھنے سے بہتر ہے“۔اسی طرح حضرت عقبہ بن عامر جہنیؓ  سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا”کسی مسلمان کی قبر پر چلنے کے مقابلے میں مجھے یہ بات پسند ہے کہ میں انگارے پر یا تلوار پر چلوں یا اپنا جوتا اپنی ٹانگ سے سی لوں“۔

مندرجہ بالا نکات کو سامنے رکھتے ہوئے موجودہ معاوضہ پالیسی برائے لائن سٹاف پرنظر ثانی کی جائے اس سے نہ صرف سیفٹی کلچر ترویج پائے گا بلکہ حادثات بھی انتہائی کم ہو جائیں گے اور جانیں جو کہ گیپکو کا قیمتی ترین اثاثہ ہیں کو محفوظ کیا جا سکے گا۔

Post a Comment

0 Comments